https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 92: مظالم عدالت کے خصوصی خصوصیات

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 92: مظالم کے قضائ(فیصلے) کے لیے مجلس قضاء کی شرط نہیں،نہ ہی مدع علیہ کو بلانا اور نہ ہی مدعی کی موجودگی شرط ہے بلکہ محکمہ مظالم کو کسی بھی ظلم کو دیکھنے کا حق ہے چاہے کوئی دعوی کرے یا نہ کرے۔

 

 

Article 92: The judiciary of the Injustice Acts (Madhalim) is not restricted by a court session or the request of the defendant or the presence of the plaintiff. It has the authority to look into any case of injustice even if there is no plaintiff.

Its proof is the evidence which confirms the conditions for the correct session to look into a case does not apply to the Court of Injustices (Madhalim) due to the absence of a plaintiff, since there is no requirement for the presence of a plaintiff, as it will look into the injustice (Madhlamah) even if no one was a plaintiff. Also, the lack of necessity for the defendant to be present, because the court looks into the case without requiring the defendant to be present since it is looking closely at the injustice (Madhlamah) and the defendant. Therefore, the evidence which makes the court session a condition - which is the words of the Messenger :صلى الله عليه وآله وسلم

«أَنَّ الْخَصْمَـيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ»

“The two litigants sit in front of the judge (between his hands).” reported by Ahmad and Abu Dawud from ‘Abd Allah Bin Al-Zubayr,and:

«إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ»

“when the two litigants sit in front of you” reported by Ahmad from Ali (ra) - does not apply. Based upon that, the Court of Injustices (Madhalim) can look into the injustice (Madhlamah) simply due to it arising, without any restraint at all, neither due to location, time, nor court session, or anything else.

However, due to the position of this court, from the angle of its powers, it used to be surrounded by what gave it an imposing and great image. In the time of the Sultans in Egypt and Ash-Sham the sitting of the Sultan during which the injustices (Madhalim) were looked into was called “The House of Justice”, and one of his delegates would undertake the session with judges and jurists present. Al-Maqrizi mentioned in his book entitled “Al-Suluk Ila Ma’rifat Duwal Al-Muluk” (The Way to Know the States of the Kings), that the Sultan Al-Malik Al-Salih Ayyub appointed deputies to act on his behalf in the House of Justice. They used to sit there to remove the injustices (Madhalim), and there would be witnesses, judges and jurists all present. There is no harm in making the Court of Injustices (Madhalim) a splendid building, for this would be from the permitted issues, especially if this reflected the might of justice.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 162:…

دفعہ نمبر 162: رعایا کے تمام افراد کو زندگی کے ہر مسئلے سے متعلق علمی تجربہ گاہیں بنانے کا حق حاصل ہے اور ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ لیبارٹریاں قائم کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

ادفعہ نمبر…

دفعہ نمبر 122: چھو ٹے بچوں کی کفالت عورت پر واجب اور اس کا حق ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم بشرطیکہ چھو ٹا بچہ اس کفالت کا محتاج ہو۔جس وقت اس کو اس کی ضرورت نہ رہے تو دیکھاجائے گا،اگر پرورش کرنے والا اور ولی دونوں مسلمان ہوں ،مرد ہو یا عورت تو چھوٹے لڑکا یا لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو کوئی اختیار نہیں دیا جائے گابلکہ ان…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 111:…

دفعہ نمبر 111: مجلس امت کے پاس پانچ اختیارات ہیں: .1(ا): خلیفہ کی جانب مجلس امت سے مشورہ لینا اورمجلس امت کی طرف سے خلیفہ کواعمال،داخلی سیاست کے ایسے علمی امور کے بارے میں مشورہ دینا جن کا تعلق معاملات کی دیکھ بھال سے ہو، جو گہری فکری تحقیق اور باریک بینی کے محتاج نہ ہوں جیسے حکمرانی کے معاملات،تعلیم،صحت،اقتصاد ، تجارت ،صنعت،زراعت وغیرہ جن میں مجلس امت کی رائے کی اختیار کرنا خلیفہ پر لازم ہے۔…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 187:…

دفعہ نمبر 187: امت کا سیاسی مسئلہ یہ ہے کہ اسلام اس امت کی ریاست کی قوت ہے، اور یہ کہ اسلامی احکامات کابہترین طریقے سے نفاذ کیا جائے اور دنیا کے سامنے اسلامی دعوت کو پیہم طریقے سے پہنچایا جائے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 50:…

دفعہ نمبر 50: معاون تنفیذ مسلمان مرد ہوتا ہے کیونکہ وہ خلیفہ کا دست راست ہوتا ہے اور راز دان ہوتا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر149:…

دفعہ نمبر149: بیت المال کی آمدن کے دائمی ذرائع یہ ہیں ۔ تمام تر فئی ،جزیہ ،خراج ، رِکاز کا خمس (پانچواں حصہ) ، زکوۃ، ان اموال کو ہمیشہ وصول کیا جائے گا خواہ ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 103:…

دفعہ نمبر 103: میڈیا وہ محکمہ یا ادارہ ہے جو ریاست کے نشرواشاعت کے احوال کا ذمہ دار ہو تا ہے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کرے اور ان کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ داخلی طور پر ایک مضبوط اور مربوط اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جوخباثت کو باہر کرے اور پاک چیزوں کو اپنے اندر سموئے، اورخارجی طور پرحالتِ امن اور حالتِ جنگ میںاسلام کی عظمت، اس کے عدل اور اس کی عسکری قوت…