https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 91: محکمہ مظالم کو کسی بھی قسم کے مظالم کو دیکھنے

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 91: محکمہ مظالم کو کسی بھی قسم کے مظالم کو دیکھنے کا اختیار حاصل ہے خواہ اس کا تعلق ریاستی اداروں کے افراد سے ہویاریاست کے سربراہ کی جانب سے احکام شرعیہ کی خلاف ورزی سے ہو یا پھر ریاست کے سربراہ کی جانب سے تبنی کے ضمن میں دستور ،قانون اور سارے احکام شرعیہ کی تشریع کے اندر نصوص میں سے کسی نص کے معنی سے متعلق ہویا کسی قسم کے ٹیکس وغیرہ لگا نے کے حوالے سے ہو۔  

 

Article 91: The Court of Injustice Acts (Madhalim) has the authority to investigate any case of injustice (Madhlamah), irrespective of whether it is related to officials of the State, the Head of State’s deviation from the Shari’ah rules, interpretation of the legislative texts in the constitution, law (Qanun) and other Shari’ah rules within the framework adopted by the Head of State, or the imposition of a tax, or anything else.

Its evidence is that the Messenger صلى الله عليه وآله وسلمconsidered that price-fixing by the ruler was an injustice (Madhlamah), and saw that the arrangements of the State in setting the order of people to irrigate their land from the public water was an issue that could lead to an injustice (Madhlamah). This indicates that the action of the ruler which contradicts the Truth or the Shari’ah rules is an injustice (Madhlamah) if it was connected to the Khalifah (Head of State), because the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم was the Head of State. And if it was connected to officials of the state it would also be an injustice (Madhlamah), because they are the delegates of the Head of State, and so it would also be connected to the Khalifah because it is connected to the action which they were delegated to and not to themselves as individuals. Accordingly, the narration regarding price fixing is evidence that the violation of the Head of State is an injustice (Madhlamah), and the Court of Injustices (Madhalim) is the entity which has the power to look into the injustices (Madhalim), which is the evidence for the first part of the article.

As for the second part, which is the investigation into a text for the constitution or canons, it is because the constitution is the basic law, and the law is the order of the authority, and so investigating it is investigating the order of the authority. Therefore, it comes under the narration regarding price fixing since it is an investigation of the actions of the Khalifah. Above and beyond that, Allah (swt) said,

{ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ }

And if you disagree over anything, refer it to Allah and the Messenger.” (TMQ 4:59), or in other words, if you and those in authority differed over something. Differing over an article of the constitution or law is a difference between the subjects and the people of authority regarding a Shari’ah rule, and so it is referred to Allah (swt) and His Messenger صلى الله عليه وآله وسلم – referring to Allah (swt) and His Messenger صلى الله عليه وآله وسلمis referring it to the Court of Injustices (Madhalim), in other words, to the judgement of Allah (swt) and His Messenger صلى الله عليه وآله وسلم.

With regards to the third part of the article, the Messenger صلى الله عليه وآله وسلمsaid,

«مَنْ أَخَذْتُ لَهُ مَالاً فَهَذَا مَالِي فَلْيَأْخُذْ مِنْهُ»

“Whoever I took property from, let him take from my property” reported by Abu Ya’la from Al-Fadl Bin Abbas,and he صلى الله عليه وآله وسلم said,

«وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلا يَطْـلُـبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْـتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلا مَالٍ»

“And I am hopeful that I will meet Allah and none of your are seeking (recompense from) me for injustice (I inflicted) involving blood or wealth,” (reported by Ahmad from Anas), and so the taking of wealth from the subjects by the Khalifah without right is considered an injustice (Madhlamah), and to take the wealth which the Shari’ah did not obligate upon the subjects is an injustice (Madhlamah), and due to this the Court of Injustices (Madhalim)can investigate the taxes since they are wealth taken from the subjects. Its investigation into the taxes is only to see whether that tax is lawfully obliged by Shari’ah upon the Muslims, such as the money taken to feed the needy, which would not be an injustice (Madhlamah), or whether that tax is not obliged by the Shari’ah, such as money taken to build a dam that is not considered essential, which would ,therefore, be an injustice (Madhlamah) that has to be removed. This is why the Court of Injustices (Madhalim) has the power to examine taxes.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 58:…

دفعہ نمبر 58: والی کا ایک ولایہ سے دوسرے ولایہ میں تبادلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی ولایت ایک خاص جگہ کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کی اس کو برطرف کرکے دوبارہ کسی دوسرے صوبے کا و الی مقرر کیا جائے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 55:…

دفعہ نمبر 55: والی کے اوپر ان امور کے بارے میں خلیفہ کو مطلع کرنا واجب نہیں جو اس کی امارت کے دائرہ اختیار میں ہیں اور وہ اپنے اختیار ات کے مطابق اقدامات کرے ان کے بارے میں خلیفہ کو آگاہ کرنا اختیاری ہے لازمی نہیں۔ اگر ایسا کوئی مسئلہ درپیش ہو جو پہلے کبھی نہیں ہو ا تو اس کے بارے میں خلیفہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے اور خلیفہ کو آگاہ کرنے کے بعد ہی اس کے بارے میںقدم اٹھا سکتا ہے تاہم انتظار کی صورت…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 154:…

دفعہ نمبر 154: حقوق اور فرائض کے لحاظ سے افراد اور کمپنیوں کے ملازمین ریاستی ملازمین کی طرح ہیں۔ ہر وہ شخص ملازم ہے جو اجرت پر کام کرتا ہے خواہ کام یا کام کرنے والا کوئی بھی ہو۔ جب آجر (ملازم) اور مستاجر (کام کروانے والا) کے درمیان اجرت پر اختلاف ہو جائے تو اجرت مثل کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔ اجر ت کے علاوہ اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تواس کا فیصلہ احکام شرعیہ کے مطابق ملازمت کے معاہدے کو…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 121:…

دفعہ نمبر 121: گھر کے کا م کاج میں میاں بیوی مکمل تعاون کریں گے،گھر سے با ہر کے تمام کاموں کو انجام دینا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ گھر کے اندر کے تمام کام حسب استطاعت بیوی کے ذمہ ہیں۔جو گھریلو کام وہ نہیں کر سکتی اس کے لیے خادم مہیا کر نا شوہر کی ذمہ داری ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 94:…

دفعہ نمبر 94: اس شخص کے لیے جو خاص اعمال میں سے کسی عمل جیسے وصیت یاولایت پر زمہ دار ہو یا عام اعمال جیسے خلیفہ، حکمران ،ملازم،قاضی مظام یامحتسب کے حوالے سے صاحبِ اختیار ہو اپنے اختیارات میںقائم مقام بنا کر جھگڑے اوردفاع کے اعتبار سے اپنا وکیل بنا سکتا ہے۔اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ مدعی ہے یا مدعی علیہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 157:…

دفعہ نمبر 157: ریاست ایسی تدابیراختیار کرے گی جس سے مال رعایا کے درمیان گردش کرتا رہے اور صرف خاص طبقے کے درمیا ن نہ رہے۔