https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 89: قاضى مظالم کی تعداد

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 89: قاضی مظالم کے لیے ایک شخص یا چند افراد کی تعداد مقرر نہیں،بلکہ خلیفہ حسبِ ضرورت مظالم پر قابو پانے کے لیے قاضی مظالم مقررکر سکتا ہے،خواہ ان کی تعداد کتنی بھی ہو۔ لیکن براہِ راست فیصلہ دیتے وقت فیصلے کا اختیار ایک ہی قاضی کے پاس ہو گااگر چہ فیصلہ سناتے وقت مجلس قضاء میں اس کے ساتھ کئی ایک قاضیوں کا ہو نا جائز ہے لیکن ان کے پاس صرف مشورہ دینے کا اختیار ہوگا اس کو بھی قبول کرنا قاضی مظالم کے لیے ضروری نہیں۔

 

Article 89: There is no limit to the number of judges that can be appointed for the Court of Injustice Acts (Madhalim), rather the Khalifah can appoint as many as he may deem necessary to eradicate the Madhalim (injustice acts), whatever that number may be. Although it is permitted for more than one judge to sit in a court session, only one judge has the authority to pronounce a verdict. The other judges only assist and provide advice, and their advice is not binding.

The evidence that the judge of the Court of Injustices (Madhalim) can be more than one is that the Khalifah is permitted to appoint one or more deputies to act on his behalf. However, if there are a number of judges of the Court of Injustices (Madhalim), their power to look into the injustices (Madhalim) cannot be divided, so each one of them would have the right to look into the cases of injustices (Madhalim). The Khalifah is however allowed to specify a judge for the Court of Injustices (Madhalim) in one province, or to specify him to a certain type of case, because he has the right to give a general governorship over the injustices (Madhalim) or a specific governorship if he wished. He can give a governorship over the whole of the State, or over a city or region, as he sees fit.

As for the fact that when the judge of the Court of Injustices (Madhalim) looks into a case he should look into it on his own, this is because of what was mentioned earlier regarding the prohibition of having numerous judges in a single case, while it is permitted to have more than one judge in the same area. However, it is permitted for other judges of the Court of Injustices (Madhalim) to sit with him in court in a consultative capacity only, and they would not participate in the verdict. This is referred to his contentment and choice – so if he did not prefer that and opposed their sitting with him then they would not do so, since no one who distracts the judge from looking into his work should sit with him. However, if he left the court session he should consult them in the issue.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 161:…

دفعہ نمبر 161: بیرونی تجارت تاجر کی شہریت کے لحاظ سے ہوگی نہ کہ اس مال کو تیار کرنے والے ملک کے حساب سے ۔ اس لیے دارالحرب کے تاجروں کو تاجر اور مال کے لیے اجازت نامہ حاصل کیے بغیر تجارت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جن تاجروں کے ممالک کے ساتھ معاہدات ہوں گے ان کے ساتھ انہی معاہدوںکے مطابق برتائو کیا جائے گا۔ ریاست ان تاجروں کو ریاست کے اندر سے ایسا مال لے جانے کی اجازت نہیں دے گی جن کی ریاست میں ضرورت…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 183:…

دفعہ نمبر 183: مقصد کا نیک ہونا(اس مقصد کے حصول کے) ذریعے کو جائز نہیں بناتا، کیونکہ طریقہ بھی فکر کی جنس سے ہے اس وجہ سے حرام ذریعہ اختیار کر کے واجب (فرض) کو ادا نہیں کیا جائے گااورنہ ہی مباح کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ سیاست کے ذرائع کاسیاست کے طریقے سے متناقض ہوناجائز نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر146:…

دفعہ نمبر146: مسلمانوں سے وہ ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کی شرع نے اجازت دی ہے اور جتنا بیت المال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ شرط یہ ہے کہ یہ ٹیکس اس مال پر وصول کیا جائے گا جو صاحبِ مال کے پاس معروف طریقے سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد زائد ہواور یہ ٹیکس ریاست کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی بھی ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر136:…

دفعہ نمبر136: ہر زمیندار کو زمین سے فائدہ اٹھانے ( کاشت کرنے) پر مجبور کیا جائے گا۔ زمین سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہوتو بیت المال سے ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کی جائے گی۔ہر وہ شخص جو زمین سے تین سال تک کوئی فائدہ اٹھائے بغیر اسے بیکار چھوڑ رکھے تو زمین اس سے لے کر کسی اور کو دے دی جائے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 115

دفعہ نمبر 115: عورت کو ریاست میں ملازم مقرر کرنا جائز ہے۔ وہ قاضی مظالم کے علاوہ قضاء کے دوسرے مناصب پر فائز ہو سکتی ہے۔ وہ مجلسِ امت کے اراکین کو منتخب کر سکتی ہے ،خود بھی اس کی رکن بن سکتی ہے ، خلیفہ کے انتخابات میں شریک ہو سکتی ہے اور خلیفہ کی بیعت کر سکتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 178…

دفعہ نمبر 178 : ریاست پروہ تعلیم مہیا کرنا فرض ہے جو زندگی کے میدان میں انسان کے لئے لازمی ہے ۔اور یہ دو مرحلوں میںیعنی ابتدائی اور ثانوی مرحلے میں ہر فرد کو چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ،مہیا کرنا ہوگی ،یہ تعلیم سب کو مفت فراہم کرنا ریاست پر لازم ہے اعلیٰ تعلیم بھی ممکن حد تک ریاست کے تمام افراد کے لئے مفت ہونی چاہیے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 27: …

دفعہ نمبر 27: جن لوگوں کی بیعت سے خلافت کا انعقاد ہوتاہے اگر وہ لوگ بطورِ خلیفہ کسی ایک شخص کی بیعت کرلیں تو باقی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی بیعت، بیعتِ اطاعت ہوگی اور یہ بیعتِ انعقاد نہیں ہوگی۔ چنانچہ جس شخص کے اندر سرکشی کے امکانات نظر آئیں اور وہ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنے کی کوشش کرے ،تو اسے بیعت پر مجبور کیا جائے گا