https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 86: محتسب کے نائبین

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 86: محتسب کو اپنے ایسے نائبین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے جن کے اندر محتسب کی شرائط پائی جاتی ہوں،جن کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ان نائبین کو اس علاقے یا محلے میں ان مسائل میں حسبہ کی ذمہ داری ادا کرنے کا اختیار ہو گاجو ان کو سپرد کیے گئے ہوں۔

Article 86: The Muhtasib has the right to appoint deputies for him. They should fulfil the requirements of the Muhtasib, and he is allowed to assign them to different places. Those deputies would have the power to carry out the duties of the Hisbah in the areas to which they have been assigned, and in the cases for which they have been delegated.

This article is restricted by whether the appointment of the Muhtasib included the right to appoint delegates for him; or in other words, the right to appoint others. This is if he had been appointed by the Khalifah. However, if the appointment was made by the Supreme Judge, the clause must be approved first, and in addition to this, the appointment of the Supreme Judge must include a clause that gives him power to allow the judges that he appoints to delegate others to act on their behalf, in other words, to give them the right to have deputies. If the Supreme Judge did not have such power, then he would not be in a position to approve such delegation, thus the Muhtasib would not be allowedto have deputies; in other words, he would not have the right to delegate. The power of the judge to delegate on his behalf, whether it be the Muhtasib, the Qadi (judge) or the judge of the Court of Injustices (Madhalim), is not in the hands of the judge unless the Khalifah allows him to doso or if the permission to recruit judges and to allow those appointed to delegate were given to the Governor of the Judiciary, in other words, the Supreme Judge. This is because the judge is appointed to the judiciary, in other words, a specific type of judiciary, which is the Hisbah. Therefore, if he were not given the right to delegate, in other words, the right to appoint a deputy for himself, he would not then possess the mandatory power to appoint anyone. This applies to the Qadi and the judge of the Court of Injustices (Madhalim), for each of them would be appointed to the judiciary according to the appointment clause, and they do not possess any other power, in other words, they do not have the power to appoint judges unless it was mentioned in the contract of their appointment. For this reason, he does not have the right to appoint deputies to perform the duties of Hisbah on his behalf, unless this was part of his contract. The same applies to the Supreme Judge.

As for the permissibility of appointing deputies, this is because when the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم was presented with a case, he appointed someone as a delegate for himself. Accordingly, in the incident of the desert Arab who came to the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم and informed him that his son was working for a man and he committed adultery with the man’s wife and asked him for the verdict, the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said at that incident,

«وَاغْدُ يَا أُنَـيْسُ - رجل من أسلم - إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْـتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا»

O Unais! Go to the wife of this (man) and if she confesses (that she has committed illegal sexual intercourse), then stone her to death.(agreed upon from Abu Hurayrah and Zayd Bin Khalid), which indicates that the judge can send a delegate on his behalf to judge upon an issue that he has specified for him, and in the same way this can be for the Muhtasib since he is a judge. However, the judge must allow his deputy to deal with the case as a whole; in other words, he must be allowed to look into the complaint and pronounce judgement himself, if the appointment to deputise is to be considered valid. This is because the judiciary is the conveying of the rule which is then binding, so in this context it cannot be split, and ,therefore, he cannot appoint him to merely investigate without judging but rather the appointment must be complete so that he becomes a judge and his judgement becomes valid. Even if he did not actually pronounce a judgement, his work would be valid, since it is not a condition for him to act as a judge - a judge could look into a case, and before completing his work and pronouncing his judgement, he could be relieved of his duties, and then the case would be referred to another judge who would pass judgement. The same applies to the judge’s deputy - it is not a condition for him to pass judgement, but he must be given the right to investigate and pass judgement when appointed; in other words, he must be appointed as a full judge, holding all the mandatory powers given to a judge. The same applies to the Muhtasib - he appoints deputies with powers to investigate and judge in the cases he assigns for them, or in the areas in which he places them, if he has been given the power to appoint deputies. The conditions for those whom the judge appoints as his deputies are that they must be Muslim, free, just, adult and possessing knowledge of jurisprudence in the issues which he will be looking into; in other words, the deputy of the Muhtasib has the same conditions as the Muhtasib since they are both judges.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 70:…

دفعہ نمبر 70: داخلی امن کا محکمہ ہی امن وامان کے انتظاما ت کا ذمہ دار ہوتاہے اور ہر قسم کے داخلی خطرات سے نمٹتاہے اور پولیس کے ذریعے ریا ست کے امن وامان کو برقرار رکھتاہے۔ یہ محکمہ فوج سے مداخلت کی درخواست صرف خلیفہ کے حکم کے بعد ہی کرسکتاہے۔ اس محکمے کا سر براہ ڈائریکٹر برائے داخلی امن وسلامتی کہلاتا ہے۔ ہر صوبے میں اس محکمے کی شاخیں ہوتی ہیں جوکہ داخلی امن کے ادارے ہوتے ہیں اور ہر صوبے کے ادارے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 81:…

دفعہ نمبر 81: قاضی کے لیے مجلسِ قضاء کے علاوہ کہیں فیصلہ کرنا جائز نہیں،گواہی اور قسم بھی صرف عدالت کی مجلس میں ہی معتبر ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 42:…

دفعہ نمبر 42: خلیفہ اپنے لیے ایک یا ایک سے زیادہ معاون تفویض مقرر کرے گا جو حکمرانی کی ذمہ داری اٹھائیں گے ۔ خلیفہ اس کو اپنی رائے اور اجتہادکے مطابق امور کی تدبیر کا اختیار دے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 56:…

دفعہ نمبر 56: ہر ولایہ میں اہل ولایہ کی ایک منتخب اسمبلی ہوگی جس کے سربراہ خود والی ہوں گے اور اس اسمبلی کے پاس صرف انتظامی امور کے حوالے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا حکمرانی کے معاملات میںاس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار بھی دو مقاصد کے لیے ہوگا۔ پہلامقصد: ولایہ کی زمینی حقائق اور ضروریات کے بارے میں والی کو ضروری معلومات مہیا کرنا اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا۔ دوسرا مقصد: والی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 188:…

دفعہ نمبر 188: اسلامی دعوت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہی سیاست کا محور ہے جس کے گرد خارجہ سیاست گھومے گی اور اسی کی بنیاد پر ریاست دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 11:…

دفعہ نمبر 11: اسلامی دعوت کا علمبر دار بننا ہی ریا ست کا اصل کا م ہے۔