https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 85: محتسب کی اتھارٹی کو

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 85: محتسب کسی بھی خلاف ورزی کے بارے میں معلوم ہو نے پر فوراً کسی بھی جگہ فیصلہ دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے لیے عدالتی نشست کی ضرورت نہیں۔اپنے حکامات کو نافذ کرنے کے لیے وہ پولیس بھی ساتھ رکھے گا ۔اس کا فیصلہ فورا نافذ العمل ہو تا ہے۔ـ

 

Article 85: The Muhtasib has the authority to judge upon violations as soon as he learns of them, irrespective of the location and without the need to hold a court session. A number of policemen are put at his disposal to carry out his orders and to execute his verdicts immediately.

 This article clarifies that a judicial court would not be required for the Muhtasib to look into the case at hand, rather he passes the judgement upon the offence the moment he is sure that it took place, and he has the power to judge at any placeand at anytime, whether in the market, in the house, while riding on the back of an animal or in the car, or during the day or night. This is because the evidence that confirms the need to have a judicial court in order to rule upon a case does not apply to the Muhtasib, because the narration which confirmed this condition states

«أَنَّ الْخَصْمَـيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ»

“that the two litigants have to sit in front of the judge” and

«إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ»

“when the two litigants sit in front of you” (reported by Ahmad from Ali (ra)). This situation does not exist with the judge of the Hisbah. For there is no plaintiff and no defendant, but rather there is a public right that has been violated or there is a violation of the Shari’ah. Also, when the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم looked into the case of the heap of food, he صلى الله عليه وآله وسلم was walking in the market at the time and the food was displayed for sale. He صلى الله عليه وآله وسلم did not summon the vendor to him, but as soon as he detected the offence he dealt with it on the spot. This indicates that the cases of Hisbah do not require a judicial court.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 74:…

دفعہ نمبر 74: محکمہ صنعت وہ محکمہ ہے جو صنعت سے متعلق تمام معاملات کا ذمہ دار ہے خواہ یہ صنعت بھاری صنعت ہو جیسے انجن اور آلات سازی ، گاڑیوں کی باڈی اور کیمیکل اور الیکڑونک مصنوعات یا پھر ہلکی(چھوٹی) صنعت ہو۔ وہ کارخانے جن کا تعلق حربی شعبے سے ہے اس شعبے کے تحت آئیں گے۔ خواہ ان کارخانوں میں تیار مال عوامی ملکیت میں آتا ہو یاانفرادی ملکیت میں ، تمام کارخانے جنگی پالیسی کی بنیاد پر استوارہونے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر146:…

دفعہ نمبر146: مسلمانوں سے وہ ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کی شرع نے اجازت دی ہے اور جتنا بیت المال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ شرط یہ ہے کہ یہ ٹیکس اس مال پر وصول کیا جائے گا جو صاحبِ مال کے پاس معروف طریقے سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد زائد ہواور یہ ٹیکس ریاست کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی بھی ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 180…

دفعہ نمبر 180 : تعلیم کے تمام مراحل میں تا لیف سے فائدہ اٹھانے (کاپی رائٹ) کی اجازت نہیںہوگی۔ کوئی بھی شخص جس نے کتاب لکھ کر شائع کی اس کے بعد اس کو کاپی رائٹ کے حقوق حا صل نہیں ہو ںگے خواہ یہ شخص مولف ہو یا کوئی اور ۔ہاں جب تک افکار اس کے ذہن میں ہیں ان کی نشرو اشاعت نہیں ہوئی تو وہ ایسے افکار لوگوں کودے کر اس پر اجرت لے سکتا ہے جیسا کہ پڑھا کر اجرت لی جاتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 75:…

دفعہ نمبر 75: عدلیہ کسی معاملے پر فیصلہ صادر کرتی ہے تاکہ اسے نافذ کیا جائے ۔یہی ادارہ لوگو ں کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے یا جماعت کو پہنچنے والے نقصان سے منع کرتا ہے یا لوگوں اور حکمرانوں کے درمیا ن پیدا ہونے والے تنازعات کو ختم کرتا ہے خواہ یہ حکمران کوئی بھی ہو ، خلیفہ ہو ، اداروں کے ملازمین ہوں یا خلیفہ کے ماتحت کوئی حکمران ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 37

دفعہ نمبر 37: خلیفہ تبنی میں احکا م شر عیہ کا پا بند ہے چنا نچہ اس کیلئے کسی ایسے حکم کی تبنی حر ام ہے جس کا اس نے ’ادلہ شریعہ‘ سے صحیح طریقے سے استنباط نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تبنی کردہ احکامات اور طریقہ استنباط کا بھی پابند ہے۔ چنانچہ اس کے لیے جائز نہیںکہ وہ کسی ایسے حکم کی تبنی کرے جس کے استنباط کا طریقہ اس سے متناقض ہو جسے خلیفہ تبنی کر چکا ہے، اور نہ ہی اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 53:…

دفعہ نمبر 53: خلیفہ کی جانب سے ہی والیوں کا تقررہوتاہے اور عمال کا تقرر بھی خلیفہ ہی کرتاہے یا اگر وہ والیوں کو یہ ذمہ داری دے تو وہ بھی عمال مقررکرسکتے ہیں۔ والیوں اور عمال کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو معاونین کے لیے ہیں اس لئے ان کا مسلمان ، مرد ، آ زاد، بالغ، عاقل، عادل ، اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے۔ ان کا انتخاب متقی اور طاقتور شخصیت والوں میں سے ہوگا۔