https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 82: عدالتوں کے متعدد درجات

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 82: کیسوں کی اقسام کے اعتبار سے عدالتوں کے متعدد درجات ہو نا جائز ہے،اس لیے بعض قاضیوں کو متعین کیسوں میں ایک حد تک مخصوص کرنا جائز ہے،ان کیسوں کے علاوہ دوسرے کیسوں کو دوسری عدالتوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

 

Article 82: It is permissible to vary the grades of courts in respect to the type of cases. Some judges may thus be assigned to certain cases of particular grades and other courts to be authorised to judge the other cases.

Its evidence is that the judiciary is delegated by the Khalifah and it is just like proxy, with no difference between them.

The judiciary is one form of proxy, and it is permitted for proxy to be general or specific. Therefore, it would be permitted to appoint a judge to deal in specific cases only, and prohibited from dealing with any other ones. It is permitted to appoint another judge to look into all sorts of cases including those mentioned, even in the same location, or to look into cases other than those mentioned. Therefore, it is permitted to have various levels of courts, and Muslims had this in the first era.

Al-Mawardi wrote in his book entitled Al-AhkamAl-Sultaniyyah: “Abu ‘Abd Allah Al-Zubayr said: ‘The leaders here in Basra used to appoint a judge at the central mosque, and they called him the judge of the mosque. He used to judge in disputes involving amounts below twenty Dinars and two hundred Dirhams, and he used to impose maintenance (Nafaqah). He would not exceed his boundaries and nor the duties entrusted to him’”.The Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم delegated others on his behalf in the judiciary in a single case such as when he delegated Amr b. Al-‘As, and he صلى الله عليه وآله وسلمdelegated others on his behalf in the judiciary in all of the cases in a particular province as he did when he delegated ‘Ali b. Abi Talib (ra) over the judiciary in Yemen. This indicates that it is permitted to have a specific and general judiciary.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 120:…

دفعہ نمبر 120: ازدواجی زندگی اطمینان کی زندگی ہو تی ہے،میاں بیوی کا رہن سہن(میل جول) ساتھیوں (دوستوں) کا ہو تا ہے۔ مرد کی بالادستی دیکھ بھا ل کے لحاظ سے ہو تی ہے حکمرانی کے لیے نہیں ۔ عورت پر اطاعت فرض ہے جبکہ مرد پر اس کے لیے رواج(عرف)کے مطابق نفقہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 128:…

دفعہ نمبر 128: انفرادی ملکیت عین (اصل) یا منفعت(فائدہ) کے بارے میں وہ حکم شرعی ہے جو مالک کو اس چیز سے نفع اُٹھانے یا اس کے عوض (متبادل) کسی دوسری چیزکے لینے کا اختیار دیتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 6:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 18:…

دفعہ نمبر 18: حکمران چار ہیں :خلیفہ ، معاون تفویض ، والی اور عامل ، یا وہ جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ ان کے علاوہ کو ئی حکمران نہیں بلکہ صرف اور صرف ملا زمین ہیں ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 176:…

دفعہ نمبر 176: فنون اور صنعت ایک لحاظ سے سائنس ہیں جیسے تجارتی فنون، فن جہاز رانی یا فنون زراعت۔ اس قسم (سائنسی نوعیت )کے فنون کو بغیر کسی قید و شرط کے اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے پہلو سے یہ فنون جب زندگی کے بارے میں نقطہ نظر سے متاثر ہوتے ہیں تو ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے تصویر سازی اور آرٹس (پینٹنگ)۔اس صورت میں اگر یہ اسلام کے نقطہ نظر سے مخالفت رکھتے ہوں تو ان علوم کو ہرگز حاصل نہیں کیا جائے…