https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 81: عدالت میں سماعت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 81: قاضی کے لیے مجلسِ قضاء کے علاوہ کہیں فیصلہ کرنا جائز نہیں،گواہی اور قسم بھی صرف عدالت کی مجلس میں ہی معتبر ہیں۔

 

Article 81: The judge can only give a verdict in a court session, and any evidence and oaths can only be considered in the court session.

Its evidence is what is narrated by ‘Abd Allah Bin Al-Zubayr who said,

«قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ»

“The Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم commanded that the two litigants sit in front of the judge (between his hands) .” (reported by Ahmad and Abu Dawud with the wording from Abu Dawud). This narration explains the form in which judgement is carried out and it is a lawful form in itself. There must be a specific form in which the judicial process be conducted, which is for the two disputing parties to sit before the ruler, and this would be the court session. Therefore, this is a condition for the validity of the judicial process i.e. it is imperative that there be a specific assembly where the judgement is to be conducted for it to be a valid judgement and this would be for the two disputing parties to sit before a ruler. This is supported by the narration of Ali (ra) when the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said to him:

«يَا عَلِيُّ، إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِ بَـيْـنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ»

“O ‘Ali, When two litigants sit in front of you, do not decide till you hear what the other has to say as you heard what the first had to say.” (reported by Ahmad), which also explains the specific form with his صلى الله عليه وآله وسلم words

إذَا جَلَسَ إِليكَ الخَصْمَانِ

“when two litigants sit in front of you”. So the court session is a condition for the validity of the judgement, and in the same manner it is a condition for the consideration of the oaths, due to the words of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم

«وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ»

“and the oath is upon the one who was accused (defendant)” (agreed upon from Ibn Abbas), and he would not have this attribute, the attribute of being accused, except in a court session. In the same manner, there would be no consideration for evidence unless given in a court session, due to the words of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم

«الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي»

“The onus of proof is upon the claimant (plaintiff)” (reported by Al-Bayhaqi with an authentic chain as Ibn Hajar said), and this attribute would not be given except in the court session.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 100:…

دفعہ نمبر 100: تمام مفادات، دفاتر اور محکموں کے مدیران کو کسی سبب سے انتظامی نظام کے ضمن میںہی معزول کیا جا سکتا ہے، تا ہم ان کو ایک کام سے دوسرے کام کی طرف منتقل کرنا جائز ہے۔ ان کو کام سے روکنا بھی جائز ہے، ان کی تعیناتی ،منتقلی، کام سے روکنا ،تادیب اوران کو معزول کرنا ان مفادات، محکموں اور اداروں کے اعلیٰ انتظامی ذمہ داران کی طرف سے ہی ہو گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 86:…

دفعہ نمبر 86: محتسب کو اپنے ایسے نائبین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے جن کے اندر محتسب کی شرائط پائی جاتی ہوں،جن کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ان نائبین کو اس علاقے یا محلے میں ان مسائل میں حسبہ کی ذمہ داری ادا کرنے کا اختیار ہو گاجو ان کو سپرد کیے گئے ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 115

دفعہ نمبر 115: عورت کو ریاست میں ملازم مقرر کرنا جائز ہے۔ وہ قاضی مظالم کے علاوہ قضاء کے دوسرے مناصب پر فائز ہو سکتی ہے۔ وہ مجلسِ امت کے اراکین کو منتخب کر سکتی ہے ،خود بھی اس کی رکن بن سکتی ہے ، خلیفہ کے انتخابات میں شریک ہو سکتی ہے اور خلیفہ کی بیعت کر سکتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 34:

دفعہ نمبر 34: خلیفہ کے تقرر کا طریقہ بیعت ہے خلیفہ کے تقرر اور اس کو بیعت دینے کے عملی اقدامات کچھ اس طرح ہوںگے: ا۔ محکمۃ المظالم خلافت کے منصب کے خالی ہونے کا اعلان کرے گا۔ ب۔ عبوری امیر اپنی ذمہ داری سنبھالے گا اور فوراََ نامزدگیاں شروع ہونے کا اعلان کرے گا۔ ج۔ شروط انعقاد کو پورا کرنے والے امیدوار وں کی نامزدگیاں قبول کی جا ئیں گی اورمحکمۃ المظالم کے مطابق ان شرائط پر پور نہ ا اترنے والوں کی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 17:…

دفعہ نمبر 17: حکومت مرکزی ہو گی جبکہ ادارہ (انتظامیہ) لامرکزیت کی بنیاد ہو گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 48:…

دفعہ نمبر 48: معاون تفویض کو کسی خاص انتظامی ادارے یا محکمے کے ساتھ خاص نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی نگرانی عام ہوگی۔ کیونکہ جو لوگ براہ راست انتظامی امور چلاتے ہیں وہ ملازم ہوتے ہیں حکمران نہیںجبکہ معاون تفویض حکمران ہے۔ اسی طرح اس کو کوئی خصوص کام یا ذمہ داری نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کا منصب نیابت عمومی کا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 102:…

دفعہ نمبر 102: بیت المال وہ محکمہ ہے جو احکام شرعیہ کے مطابق آمدن اور اخراجات کو اکٹھا کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور خرچ کرنے کی نگرانی کرتا ہے۔ بیت المال کے محکمے کے سربراہ کو ’بیت المال کا خازن‘ کہا جا تاہے۔ پھر ہر صوبے میںاس محکمے کے ذیلی دفاتر (ادارے) ہو تے ہیں اور ان میں سے ہر ادارے کے سربراہ کو’صاحبِ بیت المال‘ کہا جاتا ہے۔