https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 80: عدالتی فیصلوں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔

 

Article 80: The courts should be comprised of only one judge who has the authority to pronounce judgement. One or more judges are permitted to accompany him, however they do not have the authority of judgement but rather the authority of consulting and giving their opinion, and their opinion is not considered binding.

 Its proof is that the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم did not appoint two judges to one case, but rather he would appoint a single judge for the single case, which indicates the impermissibility of having a multiplicity of judges in a single case. Additionally, the judiciary is the informing of the Shari’ah rule which is then binding, and the Shari’ah rule for the single Muslim is not multiple, since it is the rule of Allah (swt), and the rule of Allah (swt) is one. It is correct that there could be multiple understandings of it, but concerning the Muslim from the angle of action according to it, the Shari’ah rule is singular and is never multiple. So anything other than what he understood to be the rule of Allah (swt) concerning oneself is not the rule of Allah (swt) for him, though it is considered in his view to be a Shari’ah rule. Whatever he took by imitation (Taqlid), and then acted upon, is considered to be the rule of Allah (swt) concerning him, and anything else is not the rule of Allah (swt) for him. When the judge informs him of the rule of Allah (swt) concerning him, and this is binding upon him, it is necessary that this notification be singular since it is informing him of the rule of Allah (swt) which is binding for him, and so in reality he is acting according to the rule of Allah (swt), and the rule of Allah (swt) in the situation of practical action is not multiple, even though there may be multiple understandings. Accordingly it is not correct for there to be multiple judges, since it is impossible for the rule of Allah (swt) to be multiple.

This is with respect to the single case, or in other words, in a single courtroom. As for the country, it is permitted to have two separate courts dealing in all types of cases in one area, because the judiciary is delegated by the Khalifah, so it is like the proxy where plurality is permitted and thus it would be permitted to have several judges in one area. If the disputing parties could not agree on which court they should take their case to or which judge should look into their case, the choice of the plaintiff would outweigh that of the defendant and the case would be given to the judge of his choice, as he would be seeking his right and this outweighs the defendant.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 89:…

دفعہ نمبر 89: قاضی مظالم کے لیے ایک شخص یا چند افراد کی تعداد مقرر نہیں،بلکہ خلیفہ حسبِ ضرورت مظالم پر قابو پانے کے لیے قاضی مظالم مقررکر سکتا ہے،خواہ ان کی تعداد کتنی بھی ہو۔ لیکن براہِ راست فیصلہ دیتے وقت فیصلے کا اختیار ایک ہی قاضی کے پاس ہو گااگر چہ فیصلہ سناتے وقت مجلس قضاء میں اس کے ساتھ کئی ایک قاضیوں کا ہو نا جائز ہے لیکن ان کے پاس صرف مشورہ دینے کا اختیار ہوگا اس کو بھی قبول کرنا قاضی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 51:…

دفعہ نمبر 51: معاون تنفیذ بھی معاون تفویض کی طرح بلاواسطہ براہِ راست خلیفہ سے رابطے میں ہوتا ہے وہ بھی معاون ہے لیکن حکمرانی میں نہیں صرف تنفیذ میں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 48:…

دفعہ نمبر 48: معاون تفویض کو کسی خاص انتظامی ادارے یا محکمے کے ساتھ خاص نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی نگرانی عام ہوگی۔ کیونکہ جو لوگ براہ راست انتظامی امور چلاتے ہیں وہ ملازم ہوتے ہیں حکمران نہیںجبکہ معاون تفویض حکمران ہے۔ اسی طرح اس کو کوئی خصوص کام یا ذمہ داری نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کا منصب نیابت عمومی کا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 41

دفعہ نمبر 41: صرف محکمتہ المظالم ہی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا خلیفہ کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ خلافت سے خارج ہے یا نہیں۔ صرف محکمتہ المظالم کے پاس خلیفہ کو تنبیہ کرنے یا اس کو برطرف کرنے کا اختیار ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 29:

دفعہ نمبر 29: وہ ملک یا خطہ جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت انعقاد کرے، کے لیے شرط ہے کہ اس ملک کا اقتدار اس کا اپنا ہو، جس کا انحصار صرف مسلمانوں پر ہو اور کسی کافر ریاست کا اقتدار میں کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس ملک کی داخلی وخارجی امان اور مسلمانوں کی امن و سلامتی اسلام کی وجہ سے ہو نہ کہ کفار کے بل بوتے پر۔ جو علاقے صرف خلیفہ کی اطاعت کی بیعت کریں ان کے لیے یہ شرط لازم نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 162:…

دفعہ نمبر 162: رعایا کے تمام افراد کو زندگی کے ہر مسئلے سے متعلق علمی تجربہ گاہیں بنانے کا حق حاصل ہے اور ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ لیبارٹریاں قائم کرے۔