https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 79: ججز کی تفویض

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 79: قاضی ،محتسب اور قاضی مظالم کو تمام علاقوں میں تمام مسائل کے فیصلے کرنے کی عمومی ذمہ داری سونپ دینا بھی جائز ہے اور کسی مخصوص علاقے میں کچھ مخصوص قسم کے مسائل کے فیصلے کرنے کی خصوصی ذمہ داری سونپنا بھی جائز ہے۔

 

Article 79: The Qadi, the Muhtasib and the Madhalim judge may be given a general appointment to pronounce judgement on all problems throughout the State, or alternatively they can be given an appointment to a particular location and to give judgement on particular types of cases.

 The evidence is the actions of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم, since he appointed ‘Ali b. Abi Talib (ra) as a judge for Yemen as reported by Ahmad with an authentic chain from Ali (ra) who said

(بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنَّ مِنِّي وَأَنَا حَدِيثٌ لاَ أُبْصِرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ:«اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ، يَا عَلِيُّ، إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ»، قَالَ: فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ، أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ)

“The Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلمsent me to Yemen, and I said: You have sent me to people of experience, and I am young! And I don’t know how to judge. He صلى الله عليه وآله وسلم struck me on the chest and said:'O Allah, guide his heart and make his tongue steadfast. He صلى الله عليه وآله وسلم said: When the two litigants sit in front of you, do not decide till you hear what the other has to say. If you do that, judgement will become clear to you. Ali said: after that I never doubted in passing judgment between two people.”.

He صلى الله عليه وآله وسلم appointed Mu’adh as a judge over a part of Yemen, Abu Umar b. ‘Abd Al-Barr mentioned in Al-Isti’ab

(وقال ابن إسحق: آخَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم بَيْنَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَبَيْنَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، شَهِدَ العَقَبَةَ وَبَدْراً وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا، وَبَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَاضِياً إِلَى الْجَنَدِ مِنَ اليَمَنِ، يُعَلِّمُ النَّاسَ القُرْآنَ وَشَرَائِعَ الإِسْلاَمِ، وَيَقْضِي بَيْنَهُمْ. وَجَعَلَ إِلَيْهِ قَـبْضَ الصَّدَقَاتِ مِنَ الْعُمَّالِ ...)

“Ibn Ishaq said: The Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم made a brotherhood between Mu’adh Bin Jabal and Ja’far b. Abi Talib; they witnessed Al-Aqaba and Badr and all of the events, and the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلمsent him to Al-Janad in Yemen to teach the people Quran and the Shari’ah of Islam, and to judge between them, and to collect the Sadaqah from the workers…”

He صلى الله عليه وآله وسلم appointed Amr b. Al-‘As to give judgement in one particular case. Ibn Qudamah mentioned in Al-mughni saying

(وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جَاءَ خَصْمَانِ يَخْـتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: «اقْضِ بَيْنَهُمَا» قُلْتُ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ. قَالَ: «وَإِنْ كَانَ». قُلْتُ: عَلاَمَ أَقْضِي؟ قَالَ: «اقْضِ فَإِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنْ أَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ»)

“From ‘Uqbah b. Amir who said: Two litigants brought their dispute to the Messenger of Allah, and so he صلى الله عليه وآله وسلم said – Judge between them. I said: You have supremacy over me to do that. He صلى الله عليه وآله وسلم said: Even if. I said: On what should I judge? He said: Judge, and if you are right, you will have ten rewards and if you make a mistake, you will get one reward”. Ibn Qudamah said, and Ahmad reported the same narration with a chain whose men were all authentic to ‘Uqbah b. Amir from the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم, except that he صلى الله عليه وآله وسلمsaid

«فَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ»

“And if you do Ijtihad and you are right, you will have ten rewards, and if you do Ijtihad and you have erred, you will get one reward”.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 191:…

دفعہ نمبر 191: ریاست کے لیے ان تنظیموں (آرگنائزیشنز) میں شمولیت جائز نہیں جن کی بنیاد اسلام نہیں یا وہ غیر اسلامی احکامات کو نافذ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی ادارے جیسا کہ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالت انصاف، عالمی مالیاتی فنڈ (ای۔ ایم۔ایف) عالمی بنک (ورڈبینک) یا علاقائی تنظیمیں جیسے عرب لیگ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 169:…

دفعہ نمبر 169: بنک کھولنے کی مکمل ممانعت ہو گی اور صرف اسٹیٹ بنک موجود ہوگا۔ کوئی سودی لین دین نہ ہو گا اور اسٹیٹ بنک بیت المال کے محکموں میں سے ایک محکمہ ہو گا اوراسٹیٹ بنک احکام کے مطابق قرضے جاری کرے گااور مالیاتی اور کرنسی کے معاملات میں سہولیات فراہم کرے گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 16:…

دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 66:…

دفعہ نمبر 66: فوج کو ایک ہی فوج بنایا جا ئے گا اور اسے خا ص چھا ئو نیوں میں رکھا جا ئے گا،تاہم یہ چھائو نیاں مختلف صوبوں میں ہوں گی اور ان میں سے بعض کو اسٹریٹیجک ( جنگی اہمیت کے حا مل ) علاقوں میں بنایا جا ئے گا ۔ اسی طر ح کچھ فوجی اڈے ہمیشہ متحرک رہیں گے اور یہ بے پنا ہ جنگی قوت کے حا مل ہوں گے ۔ ان فوجی چھائو نیوں یا اڈوں کوکئی ایک مجموعوں کی شکل میں منظم کیاجائے گا اور ہر مجموعے کو جیش (فوج)…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر135:…

دفعہ نمبر135: زمین خواہ خراجی ہو یا عشری ،اسے اجرت لے کر زراعت کے لیے دینا ممنوع ہے (یعنی کرایہ پر دینا) ۔اسی طرح زمین کو مزارعت (یعنی ٹھیکے پر دینا ) بھی ممنوع ہے، تاہم مساقات مطلقاً جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 92:…

دفعہ نمبر 92: مظالم کے قضائ(فیصلے) کے لیے مجلس قضاء کی شرط نہیں،نہ ہی مدع علیہ کو بلانا اور نہ ہی مدعی کی موجودگی شرط ہے بلکہ محکمہ مظالم کو کسی بھی ظلم کو دیکھنے کا حق ہے چاہے کوئی دعوی کرے یا نہ کرے۔