https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

نظام حکومت (16-23)

دفعہ نمبر 18: حکمران

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 18: حکمران چار ہیں :خلیفہ ، معاون تفویض ، والی اور عامل ، یا وہ جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ ان کے علاوہ کو ئی حکمران نہیں بلکہ صرف اور صرف ملا زمین ہیں ۔

 

Article 18: There are four types of rulers: the Khalifah, the delegated assistant, the governor, and the worker (’amil), and whoever falls under the same rule. As for anyone else, they are not considered rulers, but rather employees.

 The ruler in the article is the one holding authority who is responsible for governing the affairs, irrespective of whether the governance was for the whole State or for a part of it. Through deduction from the Shari’ah rules, the ones who are made responsible for governing the affairs, establishing the laws and are to be obeyed with respect to their implementation of the laws are these four: the Khalifah, the assistant (delegate minister), the governor, and the Amil; and they are to be obeyed due to their position of rule.

With regards to the Khalifah, he is the man who is given the pledge by the Ummah (nation) to establish the Deen (religion)as their representative, and so he establishes the hudud, implements the laws, and carries out the Jihad, and he is owed obedience:

«وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ»

He who swears allegiance to a Caliph should give him the grasp of his hand and the sincerity of his heart (i. e. submit to him both outwardly as well as inwardly). He should obey him to the best of his capacity. If another man comes forward (as a claimant to Caliphate), disputing his authority, they (the Muslims) should behead the latter.”  (reported by Muslim through ‘Abd Allah b. Amr b. Al-‘As).

As for the delegate minister, he is the assistant who assists the Khalifah in running the governing of the affairs; in other words, the general, continuous binding governorship. The evidence for this is that he is the one in a position of rule who must be obeyed in the issues that the Khalifah charged him with or requested him to assist him in carrying out the affairs. Ahmad reported with a good chain from 'Aisha (ra) that she said: the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said,

"مَنْ وَلاَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ، فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ"

“ When Allah (swt) appoints a governer over Muslims, and desire good for him (this ruler), Allah (swt) appoints a sincere minister (assistant) to him who will remind him if he forgets and helps him if he remembers.”

As for the governor, he is the man who the Khalifah gives authority to over one of the governorates of the State. The evidence that he is in a position of ruling who must be obeyed is what is reported by Muslim from Auf Bin Malik Al-Ashja’i who said that he heard the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم say

"... أَلاَ مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلاَ يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ"

“…mind you! One who has a governer appointed over him and he finds that the governer indulges in an act of disobedience to Allah, he should condemn his act, in disobedience to Allah, but should not withdraw himself from his obedience.”

"... إِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلاتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُـونَهُ، فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ، وَلا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ"

As for the ‘Amil he is the one who the Khalifah puts in charge of, or his representative, a village, townor part of a governorate. His work is like that of the governor except that he is ruling over a part of the governorate and not the whole of itand accordingly he is a ruler who must be obeyed like the governor, because he is a leader coming either from the Khalifah or the governor. Al-Bukhari reported from Anas b. Malik who said that the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said

"اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْـتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ"

“Listen and obey even if an Ethiopian whose head is like a raisin where made your ruler”. Muslim reported from Umm Al-Husayn who said that she heard the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم give a sermon in the farewell pilgrimage where he said

"وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا"

“and even if a slave who leads you by the book of Allah is appointed over you, listen to him and obey”.

With respect to the expression “and whoever falls under the same rule”, this means the Madhalim judgeand the judge of judges if he is given the authority to appoint and remove the Madhalim judge, as well as the powers of the judges in Madhalim, since the judge of Madhalim is from the rule as is the subject of article 78.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 163:…

دفعہ نمبر 163: افراد کو ایسی تجربہ گاہوں کے مالک بننے سے روک دیا جائے گا جو ایسا مواد تیار کریں جن کا افراد کی ملکیت میں ہونا امت یا ریاست کے لیے نقصان یا ضرر کا سبب ہوسکتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 114

دفعہ نمبر 114: عورت کو بھی وہی حقوق دیئے جائیں گے جو مردوں کو دیئے جاتے ہیں،اس کے بھی وہی فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جو مردوں کی ہیں۔ تاہم اسلام نے کچھ احکامات خصوصی طور پر عورتوں کے ساتھ مخصوص کیے ہیں یاشرعی دلیل کے مطابق مردوں کے ساتھ خاص کیے ہیں وہ الگ ہیں۔ عورت کویہ حق حاصل ہے کہ وہ تجارت کرے،زراعت یا صنعت سے وابستہ ہو جائے،معاہدات اور معاملات کو نبھائے ،وہ ہر قسم کی املاک کی مالک بن سکتی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 84:…

دفعہ نمبر 84: محتسب وہ قاضی ہے جو اُن تمام مقدمات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق عام حقوق سے ہواور اس میں کوئی مدعی نہیں ہوتا،بشرطیکہ یہ حدود اور جنایات(جرائم) میں داخل نہ ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 175:…

دفعہ نمبر 175: تعلیم کے تمام مراحل میں اسلامی ثقافت کی تعلیم لازمی ہو گی۔ اعلیٰ تعلیمی مرحلے میں جیسے میڈیکل، انجینئرنگ اور طبیعات میں اسپیشلائزیشن ہوتی ہے بالکل اسی طرح مختلف اسلامی علوم میں بھی اسپشلائزیشن ہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 62:…

دفعہ نمبر 62: جہاد مسلمانوں پر فرض ہے اور فوجی تربیت لازمی ہے، ہر مسلمان مرد جس وقت اس کی عمر پندرہ سال ہو جائے جہاد کی تیا ری کے لیے فوجی تربیت حاصل کرنا اس پر فرض ہو جائے گا، فوج میں با قاعدہ بھرتی ہونا فرض ِکفایہ ہے۔