https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

نظام حکومت (16-23)

دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔

 

Article 16: The system of ruling is a unitary system and not a federal system.

The only correct system for ruling is the unitary system and nothing else is acceptable. This is because the Shari’ah evidence brought it alone and prohibited anything else; it was narrated by ‘Abd Allah b. Amr b. Al-‘As that he heard the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم say

«وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْـيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ»

He who swears allegiance to a Caliph should give him the grasp of his hand and the sincerity of his heart (i. e. submit to him both outwardly as well as inwardly). He should obey him to the best of his capacity. If another man comes forward (as a claimant to Caliphate), disputing his authority, they (the Muslims) should behead the latter.” (reported by Muslim). And it is narrated by Abu Sa‘id Al-Khudri that the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said,

«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ، فَاقْـتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا»

When oath of allegiance has been taken for two caliphs, kill the one for whom the oath was taken later. (reported by Muslim). The angle of deduction from these two narrations is that the first narration explains that in the scenario that the Imamate, in other words, the Khilafah, is given to htto dispute with him over this Khilafah it would be obligatory to fight him and to kill him if he did not give up his contention. So the narration clarifies that whoever contends the leadership of the Khalifah in the Khilafah must be fought. And this is an allusion to indicate the prohibition of the division of the state, encouragement not to permit its division and prohibiting any separation from it even through the use of force to maintain its unity. As for the second narration, it is regarding the scenario when the state does not have a head, in other words, a Khalifah, and the leadership of the state, in other words, the Khilafah, was given to two people and so the second of them should be killed, and by greater reasoning if it was given to more than two. And this is an allusion to indicate the prohibition of the division of the state. This means the prohibition of making the state into multiple states and it being obligatory that the state is one. Consequently the system of ruling in Islam is a unitary system and not a federal system and anything other than the unitary system is conclusively prohibited, and for this reason the article was drafted.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 106:…

دفعہ نمبر 106: مجلس ولایہ کے اراکین کو معین ولایہ(صوبہ) کے لو گوں کی جانب سے براہِ راست انتخاب کے ذریعے سے منتخب کیا جائے گا اور مجلس ولایات (صوبوں) کے اراکین کی تعدادریاست کی ہر ولایہ کی آبادی (افراد)کی تعدادکی نسبت سے ہو گی۔ مجلسِ امت کے اراکین کو مجلس ولایات کے براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔ مجلس امت کی ابتدا اور انتہا کی مدت وہی ہو گی جو مجلس ولایہ کی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 88:…

دفعہ نمبر 88: قاضی مظالم کی تقرری خلیفہ یا قاضی القضاء کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم اس کا محاسبہ، اس کو تنبیہ یا اس کی بر طرفی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے یا پھر قاضی القضاء کی جانب سے بشرطیکہ خلیفہ کی طرف سے اس کو اس کا اختیار دیا گیا ہو۔مگر اس کی برطرفی اس حالت میںدرست نہیں ہو تی جس وقت وہ خلیفہ یا معاون تفویض یا پھرمذکورہ قاضی القضاء کی طرف سے کیے گیے کسی زیادتی کے با رے میں چھان بین کر رہا ہو،اس حالت…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 61:…

دفعہ نمبر 61: محکمہ حرب، ملٹری فورسز یعنی فوج اور پولیس سے متعلق تمام امور کا ذمہ دار ہے جس میں معاہدات ، مہمات اور فوجی سازوسامان وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ملٹری کالجز فوجی معرکے اور فوج کے لئے ضروری اسلامی ثقافت ، عسکری تربیت اور جنگی تیاری سے متعلق ہر چیز کا ذمہ دار بھی، یہی محکمہ حرب ہے اور اس محکمے کے سربراہ کو امیر جہاد کہا جاتا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 36:…

دفعہ نمبر 36: خلیفہ کے پاس درجہ ذیل اختیارات ہوتے ہیں : ا) خلیفہ ہی ان احکامات کی تبنی کرتا ہے جو لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کے لیے ضروری ہیں اور یہ تبنی کتاب و سُنت سے صحیح اجتہا د کے ذریعے مستنبط کردہ احکامات کی ہو تی ہے تا کہ یہ احکامات قوانین بن جائیں پھر ان پر عمل کرنا فرض ہو جاتا ہے اور ان کی مخالفت جائز نہیں۔ ب) خلیفہ ہی ریا ست کی داخلی اور خارجی پالیسی کے بارے میں جو اب دہ ہے، وہی فوج کا…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 172:…

دفعہ نمبر 172: تعلیم کا مقصد اسلامی شخصیت پیدا کرنا اور لوگوں کو زندگی کے معاملات سے متعلق علوم و معارف سے لیس کرنا ہے۔چنانچہ طریقہ تعلیم کو اس طرح بنایا جائے گا کہ جس سے یہ مقصد حاصل ہو اور ہر وہ طریقہ ممنوع ہو گا جو اس مقصد سے ہٹاتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 60: …

دفعہ نمبر 60: خلیفہ کا فرض ہے کہ وہ والیوں کے اعمال پر نظر رکھے اور ان کی کڑی نگرانی کرے۔ وہ ان پر نظر رکھنے کے لیے نائب بھی مقرر کر سکتا جو ان کے حالات سے خلیفہ کو باخبر رکھے اور ان کے بارے میںتفتیش کرتا رہے۔ کبھی کبھار ان سب والیوں کا اجتماعی یا پھر الگ الگ جلاس بلاتا رہے اور ان کے بارے میں رعایا کی شکایتوں سے ان کو باخبر کرتا رہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 102:…

دفعہ نمبر 102: بیت المال وہ محکمہ ہے جو احکام شرعیہ کے مطابق آمدن اور اخراجات کو اکٹھا کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور خرچ کرنے کی نگرانی کرتا ہے۔ بیت المال کے محکمے کے سربراہ کو ’بیت المال کا خازن‘ کہا جا تاہے۔ پھر ہر صوبے میںاس محکمے کے ذیلی دفاتر (ادارے) ہو تے ہیں اور ان میں سے ہر ادارے کے سربراہ کو’صاحبِ بیت المال‘ کہا جاتا ہے۔