https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

نظام حکومت (16-23)

دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔

دفعہ نمبر 17: حکومت مرکزی ہو گی جبکہ ادارہ لامرکزیت کی بنیاد ہو گا

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 17: حکومت مرکزی ہو گی جبکہ ادارہ (انتظامیہ) لامرکزیت کی بنیاد ہو گا۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 17: حکومت مرکزی ہو گی جبکہ ادارہ لامرکزیت کی بنیاد ہو گا

دفعہ نمبر 18: حکمران

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 18: حکمران چار ہیں :خلیفہ ، معاون تفویض ، والی اور عامل ، یا وہ جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ ان کے علاوہ کو ئی حکمران نہیں بلکہ صرف اور صرف ملا زمین ہیں ۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 18: حکمران

دفعہ نمبر 19: حکمران کی شرائط

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 19: حکمرانی یا حکمرانی میں داخل کو ئی بھی کا م کی ذمہ داری صرف اور صرف مر د، آزاد ، با لغ، عاقل ،قا در اور با صلا حیت شخص اٹھائے گا اور اس کا مسلما ن ہو نا بھی لا زمی شرط ہے۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 19: حکمران کی شرائط

دفعہ نمبر 20: حکمرانوں کی احتساب

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 20: مسلمانوں کی جا نب سے حکا م کا محا سبہ مسلما ن کا حق بھی ہے اور ان پر فرض کفا یہ بھی۔ ریاست کے غیر مسلم شہر یوں کو بھی حکمران کے ظلم کی شکا یت کے اظہا ر کا حق حا صل ہے ۔ وہ اسلامی احکاما ت کو ان پر غلط اندا ز سے نا فذ کرنے کی شکا یت بھی کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 20: حکمرانوں کی احتساب

دفعہ نمبر 21: سیاسی جماعتیں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 21: حکام کے احتساب یا امت کے ذریعے حکو مت تک پہنچنے کے لیے سیاسی جماعتیں بنانے کا حق مسلما نوں کو حا صل ہے، بشر طیکہ ان پا رٹیوں کی بنیا د اسلا می عقیدہ ہواوریہ جماعتیں جن احکامات کی تبنی کر تی ہوں وہ اسلا می احکا ما ت ہوں ۔ کو ئی پا رٹی بنا نے کے لیے کسی N.O.C(اجا زت ) کی ضرو رت نہیں ، ہا ں ہر وہ پارٹی ممنو ع ہو گی جس کی اسا س اسلا م نہ ہو۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 21: سیاسی جماعتیں

دفعہ نمبر 22: حکمران نظام کے اصولوں کی

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 22: نظا مِ حکومت مندرجہ ذیل چا ر بنیا دوں پر قا ئم ہو تا ہے :

  • ا۔ با لا دستی (حا کمیت اعلیٰ Sovereignity-) شرع کو حاصل ہے عوام کو نہیں ۔
  • ب ۔ اقتدار امت کا ہے ۔
  • ج۔ ایک ہی خلیفہ کا تقرر مسلما نو ں پر فرض ہے ۔
  • د۔ صر ف خلیفہ کو ہی احکا م شرعیہ کی تبنی کا حق حا صل ہے اور وہی دستور اور قوانین مرتب کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 22: حکمران نظام کے اصولوں کی

دفعہ نمبر 23: خلافت ریاست اپریٹس

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 23: ریا ست خلافت کے تیر ہ ادارے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. خلیفہ (ریاست کا سربراہ)
  2. معاونین (وزراء تغویض)
  3. وزراء تنقید
  4. والی (گورنرز)
  5. امیر جہاد
  6. اندرونی سلامی (داخلی سیکورٹی)
  7. خارجہ (خارجہ امور)
  8. صنعت
  9. قضاء (عدلیہ)
  10. مفادعامہ(انتظامی ادارہ)
  11. بیت المال
  12. میڈیا
  13. مجلسِ امت (شوریٰ اور محاسبہ)

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 23: خلافت ریاست اپریٹس

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 174:…

دفعہ نمبر 174: تعلیم میں تجرباتی علوم یا ان سے ملحقہ علوم جیسے ریاضی اور ثقافتی علوم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ تجرباتی اور اس سے ملحقہ علوم حسب ضرورت پڑھائے جائیں گے۔ تعلیمی مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں ان کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا ۔ جبکہ ثقافتی علوم کو ابتدائی مرحلے میں رکھا جائے گا، یعنی اعلیٰ تعلیم سے پہلے اور اس میں ایک خاصل حکمت عملی کی پیروی کی جائے گی جو اسلامی افکار و…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 74:…

دفعہ نمبر 74: محکمہ صنعت وہ محکمہ ہے جو صنعت سے متعلق تمام معاملات کا ذمہ دار ہے خواہ یہ صنعت بھاری صنعت ہو جیسے انجن اور آلات سازی ، گاڑیوں کی باڈی اور کیمیکل اور الیکڑونک مصنوعات یا پھر ہلکی(چھوٹی) صنعت ہو۔ وہ کارخانے جن کا تعلق حربی شعبے سے ہے اس شعبے کے تحت آئیں گے۔ خواہ ان کارخانوں میں تیار مال عوامی ملکیت میں آتا ہو یاانفرادی ملکیت میں ، تمام کارخانے جنگی پالیسی کی بنیاد پر استوارہونے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 150:…

دفعہ نمبر 150: بیت المال کی دائمی آمدنی اگر ریاست کے اخراجات کے لیے ناکافی ہو تب ریاست مسلمانوں سے ٹیکس وصول کرے گی اور یہ ٹیکس وصولی ان امور کے لیے ہے: ۱۔ فقرائ، مساکین، مسافر اور فریضہ جہاد کی ادائیگی کے لیے بیت المال کے اوپر واجب نفقات کو پورا کرنے کے لیے۔ ب۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے جنہیں پورا کرنا بیت المال پر بطورِ بدل واجب ہے جیسے ملازمت کے اخراجات، فوجیوں کا راشن اور حکام کے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 49:…

دفعہ نمبر 49: خلیفہ معاون تنفیذ مقرر کرے گا اور اس کا کام انتظامی ہوگا حکومتی نہیں۔ اس کا محکمہ خلیفہ کی جانب سے داخلی اور خارجی امور سے متعلق صادر ہونے والے احکامات کو نافذ کرنے کا ادارہ ہوتا ہے اور داخلی و خارجی پہلوؤں سے اٹھنے والے معاہدات کو خلیفہ تک پہنچاتاہے گو یا وہ خلیفہ اور دوسروں کے درمیان واسطہ ہوتاہے، خلیفہ کے احکامات لوگوں تک پہنچاتا ہے اور لوگوں کے مسائل خلیفہ تک پہنچاتا ہے۔ وہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 190:…

دفعہ نمبر 190: عسکری معاہدات عسکری نوعیت کے دوسرے معاہدات یا عسکری معاملات سے ملتے جلتے معاہدات جیسا کہ سیاسی معاہدات اور فوجی اڈے یا ہوائی اڈے کرایہ پر دینے کے معاہدات بالکل ممنوع ہیں۔ تاہم ہمسائیگی ، اقتصادی ، تجارتی، مالیاتی ، ثقافتی اور عارضی جنگ بندی کے معاہدات جائز ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 184:…

دفعہ نمبر 184: خارجہ سیاست میں سیاسی چال چلنا ضروری ہے۔ سیاسی چال کی اصل طاقت اہداف کو خفیہ رکھنا جبکہ اعمال ( کاروائیوں) کا اعلان کرنا ہے۔