https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

عمومی احکام (1-15)

دفعہ نمبر 15: حرام کا وسیلہ (ذریعہ) بھی حرام ہے

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 15: حرا م کا وسیلہ (ذریعہ ) بھی حرام ہے بشر طیکہ غا لب گمان ہو کہ یہ حرا م کا وسیلہ ہے ، اگر صرف خدشہ ہو کہ یہ حرا م تک پہنچا ئے گا تب اسے حرا م نہیں کہا جاسکتا۔

 

Article 15: The means to Haram (unlawful) are forbidden if they most likely lead to Haram. But if there is a doubt that a means might lead to Haram, then this means will not be forbidden.

 The evidence of this article is reflected in Allah’s (swt) saying

((وَلَا تَسُبُّوا۟ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا۟ ٱللَّهَ))

And do not revile those they invoke other than Allah, lest they insult Allah in enmity without knowledge.” (TMQ 6:108). Insulting the disbelievers is permissible and Allah (swt) has insulted them in the Quran. However, if this insult were to lead the disbelievers to most probably insult Allah (swt), it would become prohibited. This is because insulting Allah (swt) is not permittedm and it is prohibited in the sternest fashion. This is how the Shari’ah principle, “the means to something forbidden is also forbidden”,has been deduced.However, the means becomes prohibited if it would most likely lead to something prohibited, since the prohibition of insulting their idols was because it was the cause which would lead to the insulting of Allah (swt) – as demonstrated by the use of the letter “fa” (lest) of causality in the verse, and if it was not most likely that Allah (swt) will be insulted because of insulting their idols, like the most likely probability (ghalabat Al-dhann) required in any Shari’ah rule, then the “fa” which indicates causality would not have been used to indicate the prohibition. Therefore, if the means were not considered in the most likely probability to lead to Haram but it was merely feared that it may lead to Haram, such as a woman going out without a face cover, where it is feared that it might cause Fitnah, the means in this case would not be Haram, because the mere fear that it might lead to Haram is not sufficient to warrant a prohibition. On top of that, the Fitnah with respect to itself is not prohibited upon the woman herself. This is the evidence of this article.

Another similar principle to this one is the following principle: “If one specific item of a Mubah thing leads to harm, that particular item becomes Haram and the thing remains Mubah”.This is reflected in what is narrated when the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم passed through the land of Al-Hijr and people took water from its well. When they left the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said

«لاَ تَشْرَبُوا مِنْ مَائِهَا شَيْئاً، وَلاَ تَتَوَضَّؤُوا مِنْهُ لِلْصَّلاَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ عَجِينٍ عَجَنْتُمُوهُ فَاعْلِفُوهُ الإِبِلَ وَلاَ تَأْكُلُوا مِنْهُ شَيْئاً، وَلاَ يَخْرُجَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ إِلاَّ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ»

“Do not drink anything from its water and do not use it to make ablution for prayer. And whatever dough you prepared, give to the animals and do not eat anything from it. And no one goes out tonight but with a company.” reported by Ibn Hisham in his Sirah and Ibn Hibban in his Al-Thiqat. Drinking water is permitted, but that particular water, which is the water of Thamud, has been made prohibited by the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم because it led to harm. However, water in general remained permitted. Also, it is permitted for a person to go out at night without a companion, but the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم prohibited anyone from among that army, in that particular night and at that particular place, from going out because it led to harm. Apart from this, going out at night without a companion remained permitted. This serves as evidence that a particular item of the permitted thing becomes prohibited if it led to harm, while the thing in general remains permitted.

 

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 48:…

دفعہ نمبر 48: معاون تفویض کو کسی خاص انتظامی ادارے یا محکمے کے ساتھ خاص نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی نگرانی عام ہوگی۔ کیونکہ جو لوگ براہ راست انتظامی امور چلاتے ہیں وہ ملازم ہوتے ہیں حکمران نہیںجبکہ معاون تفویض حکمران ہے۔ اسی طرح اس کو کوئی خصوص کام یا ذمہ داری نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کا منصب نیابت عمومی کا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 130:…

دفعہ نمبر 130: ہر وہ مال جسے خرچ کرنا خلیفہ کی رائے اور اجتہاد پر موقوف ہے وہ ریاست کی ملکیت سمجھی جائے گی مثلاً ٹیکس، خراج اور جزیہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 86:…

دفعہ نمبر 86: محتسب کو اپنے ایسے نائبین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے جن کے اندر محتسب کی شرائط پائی جاتی ہوں،جن کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ان نائبین کو اس علاقے یا محلے میں ان مسائل میں حسبہ کی ذمہ داری ادا کرنے کا اختیار ہو گاجو ان کو سپرد کیے گئے ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 33:

دفعہ نمبر 33: (نئے خلیفہ کے تقرر کے سلسلے میں) ایک عبوری (وقتی ) امیر مقرر کیا جائے گا جو مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کرے اورمنصب خلافت کے خالی ہونے کے بعدنئے خلیفہ کے تقرر کے عمل کا آغاز کرے، جو یہ ہو گا: ا) سابق خلیفہ جب یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے یا وہ سبکدوش ہونے کا ارادہ کرے تو اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ایک عبوری امیر مقرر کرے۔ ب) اگر عبوری امیر کے تقرر سے قبل خلیفہ کا انتقال ہو…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر10:…

دفعہ نمبر10: تمام مسلما ن اسلام کی ذمہ داری کا بو جھ اٹھا ئیں گے، اسلام میں کو ئی مخصوص ر جا ل دین (مذہبی لوگ ) نہیں ہو تے ، ریا ست پر لا زم ہے کہ وہ مسلما نوں کے اندر اس قسم کی کوئی چیز محسوس کریں تو اس کو رو کیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 31:

دفعہ نمبر 31: خلیفہ کے لیے سات شرائط ،کہ جن کے پائے جانے سے ہی اس کی خلافت کا انعقاد ہوتا ہے، مندرجہ ذیل ہیں : مرد ہونا، مسلمان ہونا ، بالغ ہونا ، عا قل ہونا ، آزاد ہونا ، عا دل ہونا اور خلافت کی ذمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کے قابل ہونا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر141 :…

دفعہ نمبر141 : ریاست کے لئے جائز ہے کہ وہ بنجر زمین یا عوامی ملکیت میں داخل کسی بھی چیز کو رعایا کے مفادات کی خاطر محفوظ کرے ( اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے)