https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

عمومی احکام (1-15)

دفعہ نمبر10: اسلام میں کوئی پادریوں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر10: تمام مسلما ن اسلام کی ذمہ داری کا بو جھ اٹھا ئیں گے، اسلام میں کو ئی مخصوص ر جا ل دین (مذہبی لوگ ) نہیں ہو تے ، ریا ست پر لا زم ہے کہ وہ مسلما نوں کے اندر اس قسم کی کوئی چیز محسوس کریں تو اس کو رو کیں۔

 

Article 10: All the Muslims should bear the responsibility of Islam. There are no clergymen in Islam and the State should prohibit any sign of their presence among the Muslims.

Although Mujtahids are scholars, however not every scholar is necessarily a Mujtahid since a scholar could either be a Mujtahid or a Muqallid (imitator). If the Muslim were to take the Shari’ah rule in order to act upon, then, it requires some consideration: if he took the rule from a Mujtahid, he in this case would be emulating the Mujtahid. If he took it from a non-Mujtahid, he would be learning that rule from the person he had taken it from, and he would not be emulating him. However, if the Muslim was to take the rule in order to learn it, he would be learning the rule irrespective of whether he took it from a Mujtahid or a non Mujtahid. Therefore, these scholars - whether Mujtahids or otherwise - are not clergymen since none of them has any right to legitimise or prohibit anything and they are just like any other Muslim regarding every single Shari’ah rule. None of them should distinguish himself from the rest of the Muslims in anything with regards to the Shari’ah rules regardless of how high his rank is in terms of knowledge, Ijtihad and respect. Hence, what is Haram for others does not become allowed for the scholar and nor does the Wajib upon others become Mandub (recommended) for him. He is rather like any other individual Muslim. Therefore, the idea of clergymen held by Christians has no existence in Islam. The concept of clergymen is specific to Christians because a clergyman does legitimise and prohibit rules to them. Thus, attributing such a term to the Muslim scholar might give the impression of attributing the Christian concept to the Muslim scholars despite the fact that Muslim scholars do not allow and nor do they prohibit anything. Therefore, it is not fitting to attribute the term of clergyman to a Muslim scholar.

There are explicit narrations prohibiting the emulation of Christians and Jews. Abu Sa’id Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said:

«لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لاَتَّبَعْتُمُوهُمْ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: فَمَنْ»

You would tread the same path as was trodden by those before you inch by inch and step by step so much so that if they had entered into the hole of the lizard, you would follow them in this also. We said: Allah's Messenger, do you mean Jews and Christians (by your words)" those before you"? He said: Who else (than those two religious groups)?(Agreed upon with the words from Muslim)This narration has been said within the context of prohibition. Hence, the emulation of the Jews and the Christians is - as it stands - prohibited, let alone if this emulation were to lead to the generating of a Kufr concept among the Muslims. Considering the Muslim scholar as a clergyman is an emulation of the Christians who regard their scholars as clergymen and it also transfers the Christian concept of clergyman to the Muslim scholar; therefore, it is strictly prohibited in terms of emulation and it is classified as even more strictly prohibited in terms of introducing the concept. Therefore, it would be wrong to refer to the Muslim scholar as a clergyman and it is forbidden for the scholars to consider themselves as clergymen according to the Christians’ concept of clergyman. If someone was found claiming this according to the understanding mentioned, he will be prohibited and punished since he will have committed a prohibited act. In addition, the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم did not differentiate from the companions in terms of a specific dress or appearance. Al-Bukhari reported in his Sahih from Anas Bin Malik who said:

«بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ - وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ - فَقُلْنَا: هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم قَدْ أَجَبْـتُكَ ...»

A man entered the mosque on camel and made it kneel down, and then tied his leg with rope. He then asked: Who among you is Muhammad? The Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم  was sitting leaning upon something among them. We said to him: This white (man) who is leaning. The man said: O son of ‘Abd Al-Muttalib. The Prophet صلى الله عليه وآله وسلم  said; I already responded to you.For these reasons, this article has been drafted.

 

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 174:…

دفعہ نمبر 174: تعلیم میں تجرباتی علوم یا ان سے ملحقہ علوم جیسے ریاضی اور ثقافتی علوم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ تجرباتی اور اس سے ملحقہ علوم حسب ضرورت پڑھائے جائیں گے۔ تعلیمی مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں ان کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا ۔ جبکہ ثقافتی علوم کو ابتدائی مرحلے میں رکھا جائے گا، یعنی اعلیٰ تعلیم سے پہلے اور اس میں ایک خاصل حکمت عملی کی پیروی کی جائے گی جو اسلامی افکار و…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 47:…

دفعہ نمبر 47: جب معاون ِ تفویض کسی معاملے کی تدبیر کرے اور خلیفہ اس کو برقرار رکھے تو معاون کو چاہیے کہ جس طرح خلیفہ نے اس کا م کو بر قرار رکھا تھا اسی طرح اس کو نافذ بھی کرے اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ، اس کے بعد اگر خلیفہ اس کا دوبارہ جائزہ لے کر اپنی رائے بدلے اور معاون کی مخالفت کرے اور اس نے جو کچھ نافذ کیا تھا اس کو مسترد کرے تو دیکھا جائے گا کہ اگر معاون نے اس کو خلیفہ کے حکم کے عین مطابق…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر141 :…

دفعہ نمبر141 : ریاست کے لئے جائز ہے کہ وہ بنجر زمین یا عوامی ملکیت میں داخل کسی بھی چیز کو رعایا کے مفادات کی خاطر محفوظ کرے ( اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے)
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 165:…

دفعہ نمبر 165: غیر ملکی سرمائے کا استعمال اور ملک کے اندر اس کی سرمایہ کاری کرنا ممنوع ہوگی نہ کسی غیر ملکی شخص کو کئی امتیازی رعایت دی جائے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 42:…

دفعہ نمبر 42: خلیفہ اپنے لیے ایک یا ایک سے زیادہ معاون تفویض مقرر کرے گا جو حکمرانی کی ذمہ داری اٹھائیں گے ۔ خلیفہ اس کو اپنی رائے اور اجتہادکے مطابق امور کی تدبیر کا اختیار دے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 101:…

دفعہ نمبر 101: مدیران کے علاوہ جتنے ملازمین ہیں ان کی تعیناتی ، ان کی منتقلی،ان کو کام سے روکنا، ان کو سزا دینا اور ان کو برطرف کرنا ان ہی کے مفادات (اداروں) ان کے دفاتر اور محکموں کے اعلیٰ ذمہ داران کی جانب سے ہو گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 99:…

دفعہ نمبر 99: ہر مفاد (public interest) کے لیے عام ڈائریکٹر متعین کیا جائے گا۔ جبکہ ہر آفس اور ادارے کے کے لیے ایک ڈائریکٹر ہو گا جو اس کے انتظام کا نگران ہوگا اور اس کا براہ راست ذمہ دار ہو گا پھر یہ ڈائریکٹرزاپنے کام کے لحاظ سے ان مفادات کے اعلی اداروں کے آفسز یا اداروںکے ڈائریکٹرز کے سامنے جواب دہ ہو ںگے اسی طرح یہ احکام کی پابندی اور عا م نظام کے حوالے سے والی اور عامل کے سامنے بھی جواب دہ…