https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, عمومی احکام (1-15)، خلیفہ (24-41), معاون تفویض (42-48), معاون (وزیر) تنفیذ (49-51), والی ( گورنر ) (52-60), محکمہ حرب (61-69), داخلی امن (70-72), محکمہ خارجی امور (73), محکمہ صنعت ( 74), قضاء (عدلیہ) (75-95), انتظامی مشینری (96-101), بیت المال (102), میڈیا (103-104), مجلسِ امت (شوری اور محاسبہ) (105-111)، معاشرتی نظام ( 112-122 )، اقتصادی نظام ( 123-169 )، تعلیمی پالیسی (170-180)، خارجہ پالیسی (181-191)

 

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریاست کی بنیاد ہے

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریاست کی بنیاد ہے

دفعہ نمبر 2: اسلام کی ریاست اور کفر کی ریاست

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 2: دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلا می احکامات نافذ ہوں اور اُس کی امان اسلام کی امان کی وجہ سے ہو ۔ دار الکفر وہ ہے جہاں کفریہ قوانین نافذ ہوں یا اس کی امان اسلام کی امان کے بغیر ہو۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 2: اسلام کی ریاست اور کفر کی ریاست

دفعہ نمبر 3: دستور اور قوانین کو اپنانے

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 3: خلیفہ کچھ معین شرعی احکامات کی تبنی کر کے ان کو دستور اور قوانین قرار دے گا ، خلیفہ نے جب کسی حکمِ شر عی کی تبنی کر دی اور اس کو قا نون بنا دیا تب صرف یہی (تبنی شدہ ) حکم وا جب العمل شرعی حکم ہو گا ، اوریہ ایک نا فذ شدہ قا نون بن جا ئے گا ۔ رعا یا کے ہر فرد پر اس حکم پر عمل کرنا ظا ہراً اور باطنا ً فرض ہو گا۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 3: دستور اور قوانین کو اپنانے

دفعہ نمبر 4: مسلمانوں کے اتحاد کو برقرار رکھیں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 4: مسلمانوں کے اتحاد کو برقرار رکھیں

دفعہ نمبر 5: اسلامی شہریت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔

دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 5: اسلامی شہریت

دفعہ نمبر 6: حقوق اور فرائض میں برابری

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔

دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 6: حقوق اور فرائض میں برابری

دفعہ نمبر 7: کس طرح ریاست کے شہریوں پر اسلامی شریعت کا قانون لاگو کرنا

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی :

(ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔

(ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔

(ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم ہوں تو ان کے حا لات کو مدِ نظر رکھ کر ان سے غیر مسلموں کا معاملا کیا جائے گا یعنی یہ دیکھا جائے گا کہ مشرک ہیں یا اہل کتاب ۔

(د) غیر مسلموں کے ساتھ کھانے پینے اور لباس کے معاملا ت میں شرعی حدود میں رہتے ہوںان کے دین کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔

(ھ) غیر مسلموں کے درمیان شادی اور طلاق کے معاملات ان کے ادیان کے مطابق نمٹائے جائیں گے اور مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کے یہ معاملات اسلامی احکامات کے مطابق طے کئے جائیں گے۔

(و) ریا ست باقی تمام شرعی احکامات، تمام شرعی اوامر جیسے معاملا ت عقوبات ، بینات (گواہی کا نظام) نظام حکومت اور اقتصادیات وغیرہ سب کے سب ، برابری کی بنیاد پر نافذکرے گی رعایا خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ اسی طرح معاہدین (اہل معاہدہ) مستا منین (اسلامی ریاست کے امان میں رہنے والے) اور ہر وہ شخص جو اسلامی ریاست کے زیر سایہ ہے ان پر اسلامی احکامات کو نافذ کرے گی، سوائے سفیروں ، ایلچیوں اور اس نوعیت کے دوسرے لوگوں کے جن کو سفارتی امان حاصل ہوتاہے۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 7: کس طرح ریاست کے شہریوں پر اسلامی شریعت کا قانون لاگو کرنا

دفعہ نمبر 8: ریاستی زبان

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 8: عر بی زبان چو نکہ اسلام کی زبا ن ہے ، اس لیے ریا ستی زبان صرف عر بی ہی ہو گی۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 8: ریاستی زبان

دفعہ نمبر 9: اجتہاد

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 9: اجتہاد فرضِ کفا یہ ہے ۔ ہر وہ مسلمان جس کے اندر اجتہا د کی شرا ئط پا ئی جا ئیں اس کو اجتہا د کا حق حا صل ہے۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر 9: اجتہاد

دفعہ نمبر10: اسلام میں کوئی پادریوں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر10: تمام مسلما ن اسلام کی ذمہ داری کا بو جھ اٹھا ئیں گے، اسلام میں کو ئی مخصوص ر جا ل دین (مذہبی لوگ ) نہیں ہو تے ، ریا ست پر لا زم ہے کہ وہ مسلما نوں کے اندر اس قسم کی کوئی چیز محسوس کریں تو اس کو رو کیں۔

مزید پڑھیے: دفعہ نمبر10: اسلام میں کوئی پادریوں

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 82:…

دفعہ نمبر 82: کیسوں کی اقسام کے اعتبار سے عدالتوں کے متعدد درجات ہو نا جائز ہے،اس لیے بعض قاضیوں کو متعین کیسوں میں ایک حد تک مخصوص کرنا جائز ہے،ان کیسوں کے علاوہ دوسرے کیسوں کو دوسری عدالتوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

ادفعہ نمبر…

دفعہ نمبر 122: چھو ٹے بچوں کی کفالت عورت پر واجب اور اس کا حق ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم بشرطیکہ چھو ٹا بچہ اس کفالت کا محتاج ہو۔جس وقت اس کو اس کی ضرورت نہ رہے تو دیکھاجائے گا،اگر پرورش کرنے والا اور ولی دونوں مسلمان ہوں ،مرد ہو یا عورت تو چھوٹے لڑکا یا لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو کوئی اختیار نہیں دیا جائے گابلکہ ان…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 19:…

دفعہ نمبر 19: حکمرانی یا حکمرانی میں داخل کو ئی بھی کا م کی ذمہ داری صرف اور صرف مر د، آزاد ، با لغ، عاقل ،قا در اور با صلا حیت شخص اٹھائے گا اور اس کا مسلما ن ہو نا بھی لا زمی شرط ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 40

دفعہ نمبر 40: وہ امور جن سے خلیفہ کی حالت بدل جاتی ہے اوروہ خلیفہ کے منصب سے خارج ہو جاتا ہے وہ تین ہیں۔ ا) انعقاد خلافت کی شرائط میں سے کسی شرط میں خلل (نقص) آجائے ،جیسا کہ وہ مر تد ہو جائے، کھلم کھلا فسق پر اتر آئے ، پاگل ہو جائے یا اسی قسم کی کوئی دوسری صورت پیش آئے۔کیونکہ یہ شرائط انعقاد کی شرائط بھی ہیں اور شرائطِ دوام (تسلسل کی شرائط) بھی ہیں۔ ب) کسی بھی سبب سے وہ خلافت کی ذمہ داری سے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 68:…

دفعہ نمبر 68: ہر چھائونی میں ایسے کمانڈروں کی موجود گی انتہا ئی ضروری ہے جو جنگی منصوبہ بندی اور حکمت عملی ترتیب دینے میں اعلیٰ قسم کی مہارت اور تجربہ رکھتے ہوں اور پوری فوج میں بھی ایسے کمانڈروں کی تعداد ممکن حد تک زیاد ہ ہونی چاہئے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 37

دفعہ نمبر 37: خلیفہ تبنی میں احکا م شر عیہ کا پا بند ہے چنا نچہ اس کیلئے کسی ایسے حکم کی تبنی حر ام ہے جس کا اس نے ’ادلہ شریعہ‘ سے صحیح طریقے سے استنباط نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تبنی کردہ احکامات اور طریقہ استنباط کا بھی پابند ہے۔ چنانچہ اس کے لیے جائز نہیںکہ وہ کسی ایسے حکم کی تبنی کرے جس کے استنباط کا طریقہ اس سے متناقض ہو جسے خلیفہ تبنی کر چکا ہے، اور نہ ہی اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے…